کوٹہ،15؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کے صدر مقام غلنئی میں خودکش حملے میں تین خاصہ داروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں نے ایک خودکش حملہ آور کو بھی گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔مہمند ایجنسی کے پولیٹکل تحصیلدار عصمت اللہ وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ حملہ بدھ کی صبح ایجنسی کے صدر مقام میں واقع ایجنسی ہیڈکوارٹر کے مرکزی گیٹ پر ہوا۔انھوں نے بتایا دو مبینہ خود کش حملہ آور ہیڈ کوارٹر کے احاطے میں واقع سرکاری دفاتر کی جانب جانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس دوران وہاں گیٹ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔عصمت اللہ وزیر کے مطابق اس دوران ایک حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جب کہ دوسرے کو سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔حکومت کی ' اچھے اور برے' طالبان کی پالیسی بدستور موجود ہے اور جب تک یہ تقسیم رہے گی تو ملک میں مکمل امن قائم نہیں ہو سکتا۔ایجنسی ہیڈکوارٹر ہسپتال میں موجود مقامی صحافیوں نے بتایا کہ دو شدید زخمی افراد کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔
فوج کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کو افغانستان سے مہمند ایجنسی میں خود کش حملہ آوروں کے داخل ہونے کی اطلاع تھی۔بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ایک خود کش حملہ آور کو مہمند ایجنسی کے سرکاری دفاتر کے گیٹ پر فائرنگ کر کے ہلاک کردیا جب کہ دوسرے نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔بیان کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں تین خاصہ دار اور دو عام شہری ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن مہمند ایجنسی کو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔جماعت الاحرار وہی شدت پسند تنظیم ہے جس نے پیر کو لاہور میں ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اس اچانک اضافے پر بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی سے بات کرتے ہوئے دفاعی امور کے تجزیہ کار بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمد سعد کا کہنا تھا کہ سرحد پار افغانستان میں جب بھی پاکستان مخالف تنظیموں کے خلاف کاروائی تیز ہوتی ہے تو اس کا ردعمل سرحد کے اس پار بھی ظاہر ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ کارروائیوں سے بظاہر لگتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر 'پراکسی جنگ' پورے خطے میں تیز ہوتی جا رہی ہے۔ان کا یہ بھی کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درامد میں فقدان نظر آتا ہے کیونکہ کچھ حکومت کی مجبوریاں ہیں جس میں مدرسوں میں اصلاحات قابل ذکر ہے جب کہ فاٹا میں اصلاحات پر بھی پوری طرح عمل درامد نہیں کیا جارہا۔انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کی ' اچھے اور برے' طالبان کی پالیسی بدستور موجود ہے اور جب تک یہ تقسیم رہے گی تو ملک میں مکمل امن قائم نہیں ہو سکتا۔